نئی دہلی،2؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)کرناٹک کے وزیر توانائی ڈی شیو کمار کے گھر اور ان کے ریزورٹ پر انکم ٹیکس محکمہ نے بدھ کی صبح چھاپہ مارا لیکن اس چھاپے کااثر ڈی شیو کمار سے کہیں زیادہ کانگریس کے سینئر لیڈر احمد پٹیل پر پڑتا دکھائی دے رہا ہے،کیونکہ بنگلور کے اسی یگلٹن ریزورٹ میں گجرات کانگریس کے آئے ہوئے ممبر اسمبلی ٹھہرے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کے خلاف مکمل کانگریس اتر آئی ہے،جبکہ بی جے پی لیڈر مان رہے ہیں کہ یہ چھاپہ کسی بلیک منی اور بدعنوانی پر چھاپے کے خلاف ہے۔تمام اپوزیشن جماعتوں نے اسے مودی حکومت کا وچ ہنٹ پروگرام بتایا ہے۔آر جے ڈی کے ترجمان منوج جھا نے مودی حکومت پر انتقامی سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی، ای ڈی اور سی بی آئی بی جے پی کے نئے اتحادی ہیں۔مودی ان کے ذریعے اپوزیشن کی آواز کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔گجرات ماڈل کو قومی سطح نافذ کر دیا ہے، جس طرح گجرات میں وہ اپوزیشن کی آواز کو ختم کرنے کے لئے سرکاری مشینری کا استعمال کرتے تھے۔اسی طرز پر اب قومی سطح پر آئی ٹی، ای ڈی اور سی بی آئی کا بی جے پی استعمال کر رہا ہے۔وہیں مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے اپوزیشن کے سارے الزامات کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قوانین سب کے لئے ایک ہے۔کانگریس کے گناہ کا گھڑا بھر گیا ہے،چھاپہ ماری کو کانگریس لیڈر اور سونیا گاندھی کے سیاسی سیکرٹری احمد پٹیل نے بی جے پی کا’’وچ-ہنٹ‘‘قرار دیا اور الزام لگایا کہ بی جے پی محض ایک راجیہ سبھا سیٹ جیتنے کے لئے یہ سب کر رہی ہے۔احمد پٹیل نے کہا کہ ریاستی مشینری سمیت ہر دوسری ایجنسیوں کا استعمال، اب یہ انکم ٹیکس چھاپے یہ ان کی مایوسی اورناامیدی کو ظاہر کرتا ہے۔کانگریس کے ترجمان ردیپ سرجوالا نے کہا کہ گجرات کی ایک راجیہ سبھا نشست جیتنے کے لئے بی جے پی ہر سازش کر رہی ہے۔کانگریسی ممبران اسمبلی کو پہلے رشوت کے ذریعے خریدنے کی کوشش کی گئی، جب یہ ناکام ہو گیا تو مایوس بی جے پی حکومت اب کانگریسی ممبران اسمبلی پر انکم ٹیکس کے چھاپے مار رہی ہے۔تاہم محکمہ انکم ٹیکس نے بتایا کہ یہ چھاپے بس کرناٹک کے ایک وزیر کے خلاف مارے گئے ہیں۔ان کا کانگریس ممبران اسمبلی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ڈپارٹمنٹ کے صدر سشیل چندرا نے بتایا کہ شیو کمار کے دہلی واقع رہائش گاہ سے 5کروڑ کی نقد برآمد ہوئی ہے جبکہ ریزورٹ سے کوئی کیش ضبط نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ شیو کمار ریزورٹ میں ہی چھپا تھے اور ایسے میں ان کے پاس وہاں چھاپے مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔